Wednesday, 12 July 2017

Linching ..... Kya ab musalmanon ka qatl jurm nahi raha

کیا اب وطن عزیز میں مسلمانوں کا قتل جرم نہیں رہا؟
 اخلاق احمد کے قتل سے شروع ہونےوالا سلسلہ حافظجنید   کے بہیمانہ قتل تک آتے آتے  ملک میں ایک موضوع ضرور بنا لیکن  اس طرح کی وارداتوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اس کی وجہ ان قاتلوں کو میسر سیاسی  سرپرستی ہے۔ اس  سے ان کے حوصلے بلند ہیں۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ملک میں مسلمانوں کا قتل جرم نہیں رہا؟
قطب الدین شاہد 

پیٹ پیٹ کر قتل کئے جانے کی وارداتوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے لب کشائی ضرور کی لیکن ان کا لب و لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ صرف خانہ پُری کر رہے ہیں، ان کا مقصد کسی کو متنبہ کرنانہیں  ہے ، ان کا مقصد ان وارداتوں کو روکنا نہیں ہے۔
    وزیراعظم اگر سنجیدہ ہوتے تو وہ میڈیا میں بیان بازی کرنے کے بجائے  اپنے کیڈر کی میٹنگ لیتے اور ان سے پوچھتے کہ ’’کیا یہی گئو رکشا ہے؟‘‘.... انہیں متنبہ کرتے کہ ’’بس اب بہت ہوچکا۔ کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا حق نہیں ہے۔‘‘ انہیں بتاتے کہ تمہاری ان کرتوتوں کی وجہ سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی شبیہ خراب ہورہی ہے۔
    وزیراعظم کے قول و فعل میں اگر تضاد نہ ہوتا تو وہ پولیس افسران کی میٹنگ لیتے  اور ملک بھر میں پھیلی انارکی اور خاطیوں کے آزاد گھومنے پر اُن کی سرزنش کرتے اور ان سے کہتے کہ’’ گائے کے نام پر انسانوں کومارنا قبول نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ پولیس افسران کو آگاہ کرتے کہ نظم و نسق کی ذمہ داری اُن کی ہے۔وزیراعظم اگر ان وارداتوں کو  روکنا چاہتے تو اپنی پارٹی کے وزرائے اعلیٰ کو طلب کرتے اوران سے پوچھتے کہ’’ یہ کون سی گئو رکشا ہے؟‘‘ان سے لااینڈ آرڈر کی بگڑتی صورتحال پر جواب طلب کرتے اور انہیں ان کے فرائض یاد دلاتے۔
    لیکن ایسا وہ تب کرتے، جب وہ واقعی اسے ختم کرنا چاہتے۔ وزیراعظم نے تو بس ایک خانہ پُری کی ہے، دنیا کو دکھانے کیلئے بیان دے کر ایک رسم نبھایا ہے جیسا کہ ان کے پیش رو اٹل بہاری واجپئی نے ۲۰۰۲ء کے گجرات کے فسادات کے موقع پر مودی سے کہا تھا کہ ’راج دھرم نبھاؤ‘ اور مودی نے کہا تھا کہ ’’سر! وہی تو کررہا ہوں۔‘‘
    وزیراعظم نے چونکہ میڈیا کے ذریعہ اپنے ’غصے‘ کا اظہار کیا ہے کہ’’یہ  کون سی گئو رکشاہے؟‘‘ اسلئے واجپئی کی طرح انہیں زبانی جواب نہیں ملا البتہ اُسی دن جھارکھنڈ میں ایک مسلم نوجوان کو اُسی انداز میں موت کے منہ میں پہنچا کر آر ایس ایس کیڈر نے انہیں وہ پیغام  دے ہی دیا کہ ’’سر! وہی تو کررہے ہیں۔‘‘ مودی جی سنجیدہ ہوتے تو مجرمین کو اکیلے میں ڈانٹتے.... اوراگر وہ ایسا کرتے تو امید کی جاسکتی تھی کہ یہ سلسلہ وہیں رک جاتا.... لیکن جس طرح سے انہوں نے باتیں کیں اور جس طرح سے گئو رکشکوں نے اس کا جواب دیا، اس سے اس سلسلہ کے دراز ہونے کا خدشہ ہے۔
    مودی جی شاید نہیں جانتے کہ ان کی ’ڈانٹ ڈپٹ‘ کا مقصد سب جانتے ہیں۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ وہ اگر اِن واقعات کو روکنا چاہتے تو بیان بازی کے بجائے’ ذمہ داران‘کی نکیل کستے ..... لیکن وہ ایسا کیوں کریں گے؟ جبکہ انہیں اور ان کی جماعت کو اس سے سیاسی فائدہ مل رہاہے۔   دادری میں اخلاق خان کے قتل کے بعد بی جے پی نے اس سے بھرپور سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ سنجیو بالیان، مہیش شرما اور سنگیت سوم جیسے لیڈروںنے اس معاملے کے ملزمین کی واضح طور پر حمایت کی، یہاں تک کہ اس معاملے میں جیل کی ہوا کھانے والے ایک ملزم کی جیل  میں موت ہوجانے کے بعد اس کی لاش کو ترنگے میں لپیٹ کر اسے ’شہید‘ بنانے کی بھی کوشش کی گئی۔
     پہلو خان کے قتل پر جہاں مختار عباس نقوی نے یہ کہا کہ ایسا کچھ ہوا ہی نہیں، وہیں ریاستی وزیر گلاب چند کٹاریہ نے اعتراف کے باوجود ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں گئو رکشکوں کی کوئی غلطی نہیں ہے۔کٹاریہ کے مطابق ’’ لوگ گایوں کی اسمگلنگ کرتے ہی کیوں ہیں؟ گئو رکشک تو صرف انہیں روکنے کا کام کرتے ہیں۔‘‘ حالانکہ یہ بات پوری طرح واضح ہوچکی تھی کہ پہلو خان اوران کے ساتھی اسمگلر نہیں تھے بلکہ قانونی طور پر گائے خرید کرلے جارہے تھے اور ان کا مقصد دودھ کی تجارت کیلئے ان گایوں کو پالنے کا تھا۔
    ہریانہ کے۱۶؍سالہ نوجوان حافظ جنید کو جس سفاکی کے ساتھ قتل کیا گیا، اس سے پوری مسلم کمیونٹی خوف زدہ ہے لیکن زعفرانی پارٹی  کے ایک مسلم لیڈر نے اس خوف کو فرضی اور سیاسی قرار دیا۔ان کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ ویسے  اس خوف سے وہ  اوران کے ساتھی کیوں کر دوچارہوسکتے ہیں۔ خوف زدہ تو وہ ہیں جو بھگوا پرچم لے کر چلنے کو تیار نہیں۔
    راج ناتھ سنگھ نے اس قتل پر افسوس کااظہار تو کیا لیکن یہ کہہ کر اپنا پلہ جھاڑ لیا کہ یہ ریاستوں کا معاملہ ہے۔ اگر یہ معاملہ ریاستوں کا ہے تب بھی، وہ ملک کے وزیرداخلہ ہیں، کیا اس حیثیت سے ان کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ ریاستوں کی گوشمالی کریں؟ کیا یہ ان کے فرائض میں شامل نہیں کہ ملک میں قانون کے راج کا نفاذ ہو؟۲۴؍پرگنہ میںعلاقائی نوعیت کے فساد پرجہاں مبینہ طور پر ہندو بھائیوں کو تھوڑا نقصان پہنچا، مغربی بنگال کے گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی تڑپ اُٹھے،  انہیں اپنے ’فرائض‘ یاد آنے لگے اور وہ وزیراعلیٰ ممتابنرجی سے الجھ بھی گئے۔ مرکزی حکومت الرٹ ہو گئی، اس نے آناً فاناً ریاستی حکومت سے رپورٹ  بھی طلب کرلیا جبکہ بی جے پی نے پارٹی سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دے کر اسے مغربی بنگال روانہ کردیا لیکن پہلو خان، زاہد رسول بھٹ، علیم الدین  اور جنید کے بے رحمانہ قتل کے بعد حکومتی اور سرکاری سطح پر اس طرح کی کوئی سرگرمی کہیں نظر نہیں آئی بلکہ پتہ ہی نہیں چلا کہ ان ریاستوں میں ’گورنر‘ بھی ہیں۔
    تو کیا یہ سمجھا جائے کہ وطن عزیز میں اب مسلمانوں کا قتل جرم نہیں رہا؟ گزشتہ تین سال کے واقعات تو کم از کم یہی ثابت کررہے ہیں۔دراصل بی جے پی بہت زعم میں ہے اور اس زعم میں وہ اپنے حامیوں کو یہی پیغام دینا چاہتی ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کی اب کوئی حیثیت نہیں ہے.... نفرت کی اس سوداگری سے بی جے پی کو سیاسی فائدہ بھی مل رہا ہے لیکن بی جے پی کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ نفرت کا بازار گرم کرکے بہت دنوںتک اقتدار پرقابض نہیں رہا جاسکتا۔تاریخ گواہ ہے کہ ایسے بہت آئے اورچلے بھی گئے۔ سیاسی سطح پر بی جے پی کیلئے یہ اچھے دن ہیں، اسلئے وہ من مانی کرسکتی ہے لیکن کب تک؟ اسے ایسا لگتا ہے کہ وہ مسلم ووٹوں کے بغیر بھی کامیاب ہوسکتی ہے بلکہ  اپنی دانست میں اس نے مسلم ووٹوں کو سیاسی سطح پر بے وقعت بھی کردیا ہے... لیکن بی جے پی کو  یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ یہ سلسلہ بہت دن نہیں چل سکے گا۔ جمہوری ملک میں۲۰؍ فیصد ووٹ مسلسل بے وقعت نہیں رہ سکتے۔  لوک سبھا میں بی جے پی کو ۳۱؍ اور یوپی اسمبلی میں ۴۱؍ فیصد ووٹ ملے ہیں، مطلب یہ کہ اس عروج کے دور میں بھی وہ ۵۰؍ فیصدووٹ حاصل نہیں کرسکی ہے..... کیا بی جے پی نہیں جانتی کہ۵۰؍ فیصد اورا س سے زائد ووٹ پانےوالی جماعتیں آج اسی ملک میں حاشئے پر ہیں اور اپنی بقا کی جنگ لڑرہی ہیں۔ بی جے پی کو یاد نہ ہو تو وہ کانگریس ، سی پی ایم (مغربی بنگال)، ڈی ایم کے (تمل ناڈو) اور بی ایس پی (یوپی) جیسی پارٹیوں کی تاریخ کا سرسری جائزہ لے سکتی ہے۔ 
     بی جے پی کو پتہ ہے کہ یہ۲۰؍فیصد ووٹ اس کیخلاف پڑتے رہے ہیں اور جب تک وہ اس پالیسی پر عمل پیرا رہے گی، اس کے خلاف ہی پڑتے رہیںگے۔ اسلئے اپنی دانست میں  وہ مسلمانوں کو سزا دینا چاہتی ہے...لیکن وہ اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ وہ مسلمانوں کے اعتماد و حوصلے کو ان ’جھٹکوں‘ سے مجروح کرسکے گی۔ مسلمانوں کی اکثریت کو پتہ ہے کہ وہ خود اپنے اعمال کی سزا بھگت رہے ہیں، اسلئے جس دن مسلمانوں نے اپنا احتساب کرلیا، بی جے پی بھی حاشئے پر آسکتی ہے۔
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات میں ہم کیا کریں؟ کیا ہم خاموش رہیں؟ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں؟ کیا ہم بی جے پی اور اس کی ذیلی تنظیموں کا اسی کے انداز میں جواب دیں؟ کیا ہم اپنی صفوں کو درست کریں؟ کیا ہم اپنا محاسبہ کریں اوراپنی غلطیوں کی اصلاح کریں؟ کیا ہم بی جےپی کو قبول کرلیں؟
    بی جے پی اور اس کے تھنک ٹینک کولگتا تھا کہ مسلمانوں کو اُکسا دیا جائے تو وہ جگہ جگہ ہندوتوادیوں سے الجھ جائیں گے ،جس سے اکثریتی برادری میں قومیت کا جذبہ پیدا کرنا زیادہ آسان ہوجائے گا، لیکن اِکا دُکا جگہوں کو چھوڑ کر ایساکچھ نہیں ہوا۔ اکسانے اور اشتعال دلانے کے باوجود مسلمانوں نے خاموش رہ کر بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسا کرکے مسلمانوں نے آر ایس ایس کی ایک بڑی سازش کو نہایت خوبصورتی سے ناکام بنادیا ہے۔ایسے میں ہمیں مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ شرپسندوں کو ہمیں ایسا کوئی موقع نہیں دینا چاہئے کہ وہ ہم پر بیف اور لو جہاد کا الزام عائد کرسکیں۔بیف سے  پرہیز کرلینے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔بیف کا استعمال نہ کرکے ہی ہم انہیں یہ فیصلہ واپس لینے پر مجبور کرسکتے ہیں۔یہ ایک علاحدہ موضوع ہے، اس پر پھر کبھی بات ہوسکتی ہے۔ برائے مہربانی اسے بزدلی کا نام نہ دیں بلکہ اسے احتیاط تصور کریں۔کیچڑ میںسنبھل کر چلنے کو بزدلی نہیںقرار دیا جاتا۔ہم جانتے ہیں کہ احتیاط نہ کرنے والوں کے ہی دامن میں داغ لگتے ہیں۔گوشت کھانا نہ فرائض میں شامل ہے اور  نہ ہی یہ ہمارے لئے کوئی مجبوری کی بات ہے۔ کیا ہم کچھ دنوں کیلئے احتیاط نہیں کرسکتے؟
سڑک پر نماز، مجبوری یا  حق!

نماز کیلئے خشوع خضوع بنیادی شرط ہے... لیکن کیا اُس وقت ہماری پوری توجہ نماز پر مرکوز ہوسکتی ہے ، جب تیز بارش میں ہم کھلے آسمان کے نیچے نمازپڑھتےہیں۔ برسات میں اکثر جمعہ کی نماز میں مصلیان سڑک پر نماز پڑھتے ہیں،بالخصوص اُن مساجد میں جو مصروف سڑکوں کے قریب واقع ہیں۔ اُس وقت ہم امام کی اقتدا ضرور کرتے ہیں لیکن کیا واقعی ہم نماز بھی پڑھ رہے ہوتے ہیں؟ امام  صاحب قرأت کرتے ہیں اورہم میں سے بیشتر اُن آیات کی سماعت  کے بجائے یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ کہیں موبائل اور پرس بھیگ نہ جائے؟ جیب میںرکھا کوئی کاغذ نہ خراب ہو جائے۔  امام صاحب نے قرأت طویل کی یا پھر رکوع اور سجود میں خشوع خضوع کا مظاہرہ کیا تو اُن کے تعلق سے بدگمانیاں بھی پیدا ہونے لگتی ہیں کہ وہ خود تو آرام سے ہیں، اسلئے انہیں مصلیان کی فکر کیوں کر ہوگی؟ ویسے اس طرح  کے وسوسے اور خیالات صرف برسات ہی کے موسم میں نہیں آتے بلکہ تیز دھوپ میں تپتی سڑک پر نماز پڑھتے وقت بھی پیدا ہوتے ہیں۔  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟
    نئی مساجد کا قیام بہت مشکل ہے اور مساجد کی توسیع کا کام بھی آسان نہیں ہے، اس میں قانونی دشواریاں کافی ہیں...البتہ اس سے آسان، بہت آسان اور قابل عمل ایک راستہ اور ہے جس پر فوری عمل کیا جاسکتا ہے.... اور  وہ ہے ضرورت کے لحاظ سے  زائد جماعتوں میں نماز کا اہتمام ۔
    ابھی برسات کے پیش نظر عیدالفطر کے موقع پر نماز دوگانہ کیلئے ممبرا کی سنی جامع مسجد میں  ۵؍ جماعتیں ادا کی گئیں۔کیا اس طرح کے انتظامات عید اورجمعہ کی نماز کیلئے  دیگر مساجد میں نہیں کی جاسکتیں؟ ممبئی میں بھی ایسی کئی مساجد ہیں ، جہاں جمعہ کی نماز کیلئے تین تین جماعتیں ہوتی ہیں۔پھر ایسا ان تمام جگہوں پر کیوں نہیں ہوتا جہاں جہاں مساجد میں جگہ کی تنگی ہے؟
    سڑک پر نماز پڑھنے سے صرف نمازی پریشان نہیں ہوتےبلکہ برادران وطن کو بھی دِقتوں کا سامنا ہوتا ہے۔ کہیں کہیں پورا راستہ  بند ہوجاتا ہے۔ ان پریشان حال افراد میںطلبہ بھی ہوسکتے ہیںجو امتحان دینے جارہے ہوتےہیں ،  مریض بھی ہو سکتے ہیں جن کا وقت پر اسپتال پہنچنا ضروری ہوتا ہے اور ملازمت کے متلاشی بے روزگار افراد بھی ہوسکتےہیں، جنہیں انٹرویو دینےجانا ہوتا ہے۔
    ہم  دعویٰ کرتے ہیں اوریہ دعویٰ بجا بھی ہے کہ دینِ اسلام ، دینِ فطرت ہے اور یہ پورے عالم کیلئے رحمت ہے، لیکن کیا ہم اپنے عمل سے بھی یہ ثابت کرتے ہیں؟ عبادت ہمارا ذاتی عمل ہے، جس کی ادائیگی  ہم پر فرض ہے اور یہ ہم اپنےنامۂ اعمال کو بہتر بنانے کیلئے کرتے ہیں... لیکن یہاں رک کر ہمیں تھوڑا سا سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم اپنی   عبادت کیلئے کسی کو پریشانی میں ڈالیں گے تو وہ ہمارے اور ہمارے مذہب کے تعلق سے کیا رائے قائم کرے گا؟ وہ اسے کیوںکر پوری دنیا کیلئے رحمت سمجھے گا؟ اور اس سے بھی اہم یہ کہ کیا  اللہ تعالیٰ ہماری اس عبادت کو قبول کرے گا، جس سے اس کے بندوں کو تکلیف ہو۔  بلاشبہ اللہ کے بندے سبھی ہیں، صرف ہم نہیں۔
    اِس وقت جبکہ پوری دنیا میں اسلام اور مسلمان نشانے پرہیں،ہم بھی اسلام کی شبیہ خراب کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھ رہے ہیں؟ سڑک پر ہم نماز پڑھتے ہیں تو اسے مجبوری نہیں بلکہ حق سمجھتے ہیں۔مجبوری سمجھتے تو ہمارا رویہ نرم ہوتا اور ہم متاثرین کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے لیکن یہاں ہماری اکڑ ’دیکھنے‘ لائق ہوتی ہے۔جمعہ کے دن ’بیان‘ شروع ہوتے ہی سڑک پر چٹائیاں بچھا دی جاتی ہیں، جبکہ مسجد کے اندر جگہ خالی ہوتی ہے....  اور یہ چٹائیاں نماز کے بعد چندہ وصولی اور اس کے بعد دعا سے پہلے نہیں اٹھائی جاتیں۔ اگر ہم سڑک پر نماز پڑھنے کیلئے  واقعی ’مجبور‘ ہیں تو کیا ایسا نہیں کرسکتے کہ صرف فرض نماز کے وقت سڑک پر بچھائیں اورسلام پھیرنے کے فوراً بعد اسے اٹھالیں؟ ہم اپنا محاسبہ آخر کب کریں گے؟

Friday, 13 November 2015

Anchor_ Bihar election result

 بہار کا نتیجہ اُن سیاسی جماعتوں کیلئے باعث  احتساب  ہے جوسیکولر ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں
عوام نے اپنا فیصلہ صادر کردیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ اب یہ فیصلہ بایاں محاذ، بی ایس پی، این سی پی، سماجوادی ، ایم آئی ایم اوراس طرح کی دیگر سیاسی پارٹیوں کو کرنا ہے کہ وہ  اپنی بقا چاہتی ہیں یانہیں؟

قطب الدین شاہد
 

اہلِ بہار نے وہی کیا جو انہیں کرنا چاہئے تھا۔ ہوش مندی اور دانشمندی کابہترین ثبوت دیا۔ انہوں نے ثابت کیاکہ وہ نہ صرف خود دار ہیں بلکہ سمجھدار اور ہوشیار بھی ہیں۔ نتائج دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے پورے ملک کی آواز سن لی تھی اوراپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرلیا ہے۔اس آواز پر ا نہوں نے لبیک کہا اور اس طرح پورے ملک میںمسرت کاایک خوشگوار ماحول فراہم کیا۔ وہ کسی کے بہکاوے اور چھلاوے میں نہیں آئے اور وہی کیا جو وقت کا تقاضا اور ملک کی آواز تھی۔ اس کیلئے اہل بہار یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں۔
    بہار اسمبلی کے انتخابی نتائج  کےکئی مثبت پہلو  ہیں۔ جیسے  یہ کہ عوام نے نہایت خاموشی سے اپنے حق کا استعمال کیا، فرقہ پرستوں کی سازش کے شکار نہیں ہوئے، گمراہ کن میڈیا پر توجہ نہیں دی،اس کی وجہ سے مایوس نہیں ہوئے اور اپنی ذمہ داریوں کے تئیں غفلت نہیں برتی بلکہ بھرپور ووٹنگ کی۔ لیکن  ان تمام میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اگر سیکولرازم کا نام لینےو الی سیاسی جماعتیں تھوڑی دیر کیلئے اپنی اَنا کو بالائے طاق رکھ دیا کریں تو نہ صرف یہ کہ خود اقتدار کے مزے لوٹیںگی بلکہ وہ ہم خیال عوام کوان ذہنی پریشانیوں سے نجات بھی دلا نے کا کام کریںگی جن سے وہ بیچارے ہر بار انتخابی دنوں میں جوجھتے ہیں۔  اس مرتبہ بہار میں آر جے ڈی، جے ڈی یو اور کانگریس نے کچھ ایسا ہی کیا جس کا انہیں خاطرخواہ فائدہ ملا۔اس کیلئے یہ تینوں جماعتیں بھی مبارکباد کی مستحق ہیں۔
     بلاشبہ اس عظیم اتحاد کا کریڈٹ لالو پرساد یادو کو جاتا ہے جنہوں نے لوک سبھا الیکشن کے بعد ہی اس بات کو محسوس کرلیا تھا کہ آئندہ ہم خیال جماعتوں کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنا ہے اور اس کی مدد سے مودی کے طلسم سے پہلے بہاراور پھر ملک کو آزاد کرانا ہے۔اس مقصد کو تکمیل تک پہنچانے کیلئے لالو کو کئی باراپنی انا کو قربان کرنا پڑا۔ دوران انتخابات انہوں نے بار بار انکسار کا مظاہرہ کیا۔ لالو کو نہ صرف بی جے پی نے بھر پور نشانہ بنایا بلکہ میڈیا نے بھی انہیں  شروع سے آخر تک تنقید کی زد پر رکھا  ، یہاں تک کہ لالو کا وقار مجروح کرنے میں کانگریس نے بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی لیکن انہوں نے کسی موقع پر صبر کا دامن نہیں چھوڑا بلکہ اپنے انداز میںمسکرا کر وہ زہر پیتے رہے۔
    یہ الیکشن بعض سیاسی جماعتوں کیلئے نوشتۂ دیوار بھی ہیں۔ ضرورت ہے کہ بایاں محاذ، این سی پی ،ایس پی ، بی ایس پی اور ایم آئی ایم جیسی جماعتیں اب ہٹ دھرمی سے باز آکر شعوری فیصلےکریں ۔ ایسا کرنا، انہیںکے مفاد میں ہے۔ سیکولر عوام نے اپنا فیصلہ صادر کردیا ہے۔ انہوں نے بتادیا ہے کہ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنااور اپنی پالیسیوں میں اصلاح کرنا، ان جماعتوں  کی مجبوری ہوسکتی ہے، عوام کی نہیں۔  اس الیکشن میں ایک چھوٹی سی مثال کانگریس کی ہے۔ اس نے ۴۰؍ نشستوں پر الیکشن لڑنے کیلئے رضا مندی کااظہار کیا جن میں سے ۲۷؍ سیٹوں پر قبضہ بھی جما لیا۔ یہ بات آنکھ بند کرکے کہی جاسکتی ہے کہ اگر وہ ۲۴۳؍ سیٹوں پر الیکشن لڑنے کی ضد کرتی تو بہت ممکن ہے کہ اس کا ووٹ شیئر ۶ء۷؍ کے فیصد کے بجائے ۸؍ سے  ۹؍  فیصد ہوجاتا لیکن اس کی جھولی میں دو تین سیٹیں بمشکل  آپا تیں۔  ایسے یہ بات بڑی آسانی سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر اس اتحاد میں بایاں محاذ، این سی پی اور سماجوادی بھی شامل ہوتیں تو نہ صرف آج ان کے چہروں پر بھی مسکان ہوتی بلکہ گئی گزری حالت میں  اسمبلی میں ان کے بھی ۴۔۲؍ نمائندے پہنچ جاتے۔ صورتحال یہ ہے کہ تمام تر کوششوں کے بعد لیفٹ فرنٹ کو صرف ۳ء۵؍ فیصد ووٹ ہی مل سکے جبکہ ابھی چند سال قبل تک یہ محاذ ملک کو علاحدہ سیاسی نظام دینے کی بات کررہا تھا۔ سماجوادی کو صرف ایک فیصد ووٹ ملا جبکہ بی ایس پی کو  ۲؍ اورایم آئی ایم کو صرف اعشاریہ۲؍ فیصد ووٹ ملے ہیں۔  ضرورت ہے کہ اس طرح کی تمام جماعتیں اپنا احتساب کریں اور آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرتےوقت حالات کی نزاکتوں کو محسوس کریں اور عوام کا ذہن بھی پڑھنے کی کوشش کریں۔ ان تمام جماعتوںکو ملنےوالے ووٹوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں ہے کہ اتحاد میں شامل ہونے سے مہا گٹھ بندھن کو شاید ہی کوئی فائدہ ہوتا لیکن انہیں اس کا صلہ ضرور ملتا
۔

Roznaamcha_ Naseehat aur mashvire

نصیحت اور مشورے
 
ہمارے یہاں مفت مشوروں کی زبردست فراوانی ہے۔جسےدیکھو،وہ دوسروں کو نصیحت کرتا اور مفت مشورے  دیتا نظر آتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ نصیحت کرنےوالے خود اپنی باتوں پر عمل نہیں کرتے جس کی وجہ سے ان کی باتوں کا دوسروں پر کچھ بھی اثر نہیں ہوتا۔
    ہمارے ایک واقف کار ہیں جو اپنے بھائی بہنوں میں سب سے بڑے ہیں۔ وہ برسوں سے اپنے والدین سے الگ رہتے ہیں۔ جب ساتھ میں تھے تووالدین سے روزانہ کا جھگڑا ان کا معمول تھا۔ کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ وہ کئی بار والدین پر ہاتھ بھی اٹھا چکے ہیں۔  یہ اور بات ہے کہ ان کے والدین کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ ان کے اپنے اعمال کی سزا تھی۔ اپنے وقت میں  وہ بھی اپنے والدین کو کافی اذیتیں پہنچاچکے ہیں۔
    گزشتہ کچھ دنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے واقف کار جو اپنے والدین سے جھگڑا کرکے علاحدہ ہو چکے ہیں، والدین کی عظمت سے متعلق فیس بک پر ایک سے بڑھ کر ایک نصیحت آموز باتیں پوسٹ کررہے ہیں۔ دلوں کو چھو لینےوالےواقعات و حکایات اور احادیث  پوسٹ کرکے یہ لوگوں کو مفت مشورے دیتے نظر آرہے ہیںکہ دنیا و آخرت میں فلاح چاہتے ہو تو والدین کو خوش رکھنے کی کوشش کرو۔ فیس بک پر پوسٹ کی جانے والی یہ تمام باتیں کافی پُر اثر ہیں لیکن  افسوس کے ساتھ یہ بات کہنی پڑرہی ہے کہ مجھ پر ان باتوں کا ذرا سا بھی اثر نہیں ہوا۔  جب اس پر غور کیا تو اندازہ ہوا کہ چونکہ ’ناصح‘ کا ماضی اور حال میرے سامنے ہے، اسلئے مجھ پر وہ باتیں اثر نہیں کررہی ہیں۔  ایسا ہم سب کے ساتھ ہوتا ہے۔
    یہ تو ایک مثال ہے، ورنہ صورتحال یہ ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر ہمیں اس طرح کے ناصح کا سامنا ہوتاہے اور ہم ہنستے ہوئے وہاں سے گزر جاتے ہیں گویا اس نے کوئی لطیفہ سنایا ہو۔  استاد کہتے ہیں کہ ’’بچو! وقت کی پابندی کرو‘‘ اور وہ صاحب خود کبھی وقت کی پابندی نہیں کرتے۔والد کہتے ہیں ’’بیٹا جھوٹ مت بولو‘‘ اور خود بیٹے سے کہتے ہیں کہ ’’ فون پر بول دو کہ ابو کی طبیعت خراب ہے، ابھی سو رہے ہیں‘‘۔امی کہتی ہیں کہ ’’بیٹی غیبت نہیں کرنی چاہئے‘‘ اور بیٹی دیکھتی ہے کہ اس کی ماں دن بھر پڑوسی خواتین کے ساتھ دوسروں کی خامیاں چٹخارے لے کر بیان  کیا کرتی  ہے۔خطیب صاحب منبر سے اعلان کرتے ہیں کہ ’’کسی کی دل آزاری نہیں کرنی چاہئے‘‘ اور مسلکی اختلافات پر خود اس قدر لاف گزاف کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ امام صاحب کہتے ہیں کہ ’’حرام مال کمانےوالوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے‘‘ اور انہیں دیکھو تو  ہر جمعرات کو ’خیرو برکت‘ کی دعائیں پڑھنے وہیں پہنچے رہتے ہیں۔
    غور کریں۔ ان حالات میں ان کی نصیحتیں دوسروں پر کیوں کر اثرا نداز ہوںگی جبکہ یہ خود اس پر عمل نہیں کرتے۔  یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم چاہتے ہیں کہ پوری دنیا میں اسلامی قوانین نافذ ہوجائے لیکن ہم  خوداپنی زندگی پر اسلامی قوانین کا اطلاق نہیں چاہتے۔

Roznaamcha_Imam aur Khateeb


 امام اور خطیب
 
گزشتہ دنوں وہاٹس ایپ کے ایک گروپ میں جس کے زیادہ تر اراکین علم دوست ہیں، ایک صاحب نے گروپ ممبران سے کہا کہ’’کبھی ہمارے علاقے میں جمعہ کی نماز پڑھنے آئیں، ہمیں امید ہے کہ آپ دوبارہ وہاں نماز پڑھنے کی زحمت نہیں کریںگے۔‘‘ یہ سن کر بہت عجیب سا لگا۔ پہلے تو  ذہن میں یہی سوال آیا کہ کیا ہمیں اس طرح کا اظہار خیال کرنا چاہئے؟ لیکن جب ان کے الفاظ پر غور کیا تو  اُن کے کرب کا اندازہ ہوا۔ بلاشبہ یہ بات یوں ہی سرسری طور پر نہیں کہہ دی گئی ہوگی بلکہ یہ کہنے سے قبل ان کا دل خون کے آنسو رویا ہوگا۔کئی جگہوں پر ہمیں بھی  اس کا اندازہ ہوا ہے اور ہم نے بھی یہی بات محسوس کی ہے اور بسا اوقات اس طرح کا فیصلہ کرنے پر مجبور بھی ہوئے ہیں کہ آئندہ کہیں اور نماز پڑھیں گے ۔
    نمازجمعہ میں خطبہ کا سننا واجب ہے۔ خطبے کے ساتھ ہی ہمارے یہاں تقریر اوربیان بھی ہوتے ہیں۔ یہ ہماری خوش بختی ہے کہ ہمیں اس طرح کے مواقع میسر ہیں۔ نماز جمعہ ہی کے بہانے ہمیں ہر ہفتے ایک ساتھ مل بیٹھنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔ اسلام میں کوئی حکم، کوئی رکن اور کوئی عبادت حکمت سے خالی نہیں۔ بلاشبہ نماز جمعہ میں ہونے والے ’بیان‘کی بھی  بہت ساری حکمتیں ہیں جن میں ایک اہم حکمت یہ ہے کہ اس موقع پر ضروری پیغامات کو سماج تک آسانی سے پہنچادیا جائے۔
     لیکن بہت افسوس کےساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت کم مساجد میں ’بیان‘ کا مثبت استعمال ہوتا ہے۔ زیادہ تر مساجد میں دوسرے مسالک کی خامیاں اجاگر کی جاتی ہیں اور  اس قدر اشتعال انگیزیاں کی جاتی ہیں کہ بسا اوقات فساد کا خطرہ بھی لاحق ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ ایسا قصداً کرتے ہیں تو کچھ جہالت کی بنا پر کرتے ہیں۔  قصداً وہ لوگ کرتے ہیں جنہوں نے مذہب کو تجارت بنا لیا  ہے اوراس کی وجہ سے ان کی روزی روٹی چلتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جہاں جو مال بکتا ہے، وہاں وہی بیچا جاتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ مقتدیوں کی ایک بڑی تعداد یہی کچھ سننا چاہتی ہو۔ اسی طرح کچھ ’عالم‘ اپنی جہالت کی بنا پر خطیب کے منصب کا غلط استعمال کرتے ہوئے ’اوٹ پٹانگ‘ بکتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ نماز جمعہ میں خطبہ اور بیان سننے کیلئے بہت کم مقتدی ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ۲؍رکعت پڑھنے کیلئے ہی آتے ہیں۔ ہم سب انہیں کوستے  ہیں اور طنز بھی کستے ہیں کہ یہ۲؍ رکعت کے نمازی ہیں لیکن اس پر غور نہیں کرتے کہ یہاں  خطبے کی سماعت میں مقتدیوں کی تعداد کم کیوں ہوتی ہے؟  مساجد کے ٹرسٹیان اور ذمہ داران اگر تھوڑا سا بھی نظر گھما کر اور بلا لحاظ مسلک  ان مساجد کی جانب دیکھیں جہاں خطبہ سننے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور جہاں پڑھے لکھے اور صاحب شعور افراد جمع ہوتے ہیں ، تو انہیں اندازہ ہوجائے گا کہ وہاں کے خطیب کیاکہتے ہیں؟ مساجد میں مسالک سے متعلق تعصب کی باتوں کو بیشتر غلط سمجھتے ہیں لیکن یہ سلسلہ اسلئے جاری رہتا ہے کیونکہ اس پر وہ خاموش رہتے ہیں    ۔

Wednesday, 4 November 2015

بِہار میں موسم بَہار کی دستک، سیکولر محاذ کیلئے راستہ آسان

بہار میں انتخابی نتائج بھلے ہی ۸؍ نومبر کو ظاہر ہوں لیکن اس سے قبل ہی خوشگوار نتائج کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ موسم کی طرح بہار کا سیاسی موسم بھی معتدل انداز میں رواں دواں ہے اور اب بس بہار آنے ہی والی ہے۔ ایک جانب جہاں لالو پرساد یادو اور نتیش کمار کی خود اعتمادی ہے وہیں دوسری جانب امیت شاہ اور نریندر مودی کی بوکھلاہٹ ہے۔  اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہار کے انتخابی نتائج سے ملک کی سیاسی فضا میں ایک خوشگوار تبدیلی آنےوالی ہے
 
   قطب الدین شاہد
 
حالات کا اپنے طور پر جائزہ لینے سے قبل آئیے  ایک سینئر صحافی کا تجزیہ دیکھتے چلیںجس کی ملک اور ریاستوں کی سیاست بالخصوص بہار کے  سیاسی حالات  پر گہری نظر ہے ۔ مشہور محقق اور صحافی اجے بوس جنہوں نے مایاوتی کی سوانح حیات قلمبند کی ہے، لکھتے ہیں کہ ’’ملک بھر میں ریاستی انتخابات کا احاطہ کرنے کے اپنے۴۰؍ سالہ تجربے اور مشاہدے کے دوران میں نے شاید ہی کبھی کسی حکمراں وزیر اعلیٰ کے تئیںعوام کا اس قدرمثبت رویہ دیکھا ہو۔ بہار میں انتخابی ماحول گرمانے کے ساتھ میں نے حال ہی میں پٹنہ کے شمالی اور جنوبی علاقوں کا دورہ کیا۔ حکومت کی بے حسی اور غلط حکمرانی سے متعلق  رائے دہندگان میں انتخابات کے وقت عموماً جو ناراضگی پائی جاتی ہے، وہ یہاںقطعی نظر نہیں آئی۔ اس کے بجائے دھول بھرے گاؤں میں عورت  اورمرد، نوجوان اور بوڑھے، ہندو اورمسلم، اعلیٰ ذات اوردلت نتیش حکومت کی کامیابیاں گناتے دکھائی دے رہے تھے۔ سڑکوں اور شاہراہوں کا معاملہ ہو، اسکولوں اوراسپتالوں  پر گفتگو ہو یا پھر گاؤں میں بجلی پہنچنے کی باتیں ہوں، نتیش راج میں ترقی کا پیمانہ بننےوالی یہ کامیابیاں لاکھوں بہاریوں کی زبان پر ہیں۔‘‘
    لوک سبھا الیکشن میں ہزیمت کے فوراً بعدلالو، نتیش اور کانگریس نے جس طرح بروقت ہوش کے ناخن لینےکا مظاہرہ کیا، اس نے عوام کا تذبذب اسی وقت ختم کردیا تھا۔ اسی دن سے بہار کےانتخابی نتائج کااندازہ ہوگیا تھا لیکن مودی کے حواری پروپیگنڈے کی طاقت سے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے تھے کہ بھگوا محاذ نہ صرف مقابلے میں ہے بلکہ اسے سبقت بھی میسر ہے۔ حالانکہ یہ بات کسی بھی طرح ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ آخر کن بنیادوں پر اس طرح کے دعوے کئے جا رہے ہیں؟  لوک سبھا الیکشن میں جب مختلف وجوہات کی بنیاد پر مودی کی لہر چل رہی تھی، بی جے پی اوراس کی اتحادی جماعتوں کو مجموعی طور پر ۳۸؍ فیصد ہی ووٹ مل پائے تھے، پھر آج جبکہ اس مقبولیت میں کافی کمی آچکی ہے، کس طرح انتخابی سرویز میں اسے پہلے سے بھی زیادہ ووٹ ملنے کی بات کی جارہی ہے۔ دوسری طرف اُس الیکشن میں آر جے ڈی، جے ڈی یو اور کانگریس کو مجموعی طور پر     ۴۵؍ فیصد سے زائد ووٹ ملے تھے۔ ظاہر ہے کہ لوک سبھا کے بعد سے اب تک ان تینوں جماعتوں کی مقبولیت میں کہیں سے بھی کوئی کمی نہیں آئی ہے بلکہ اضافہ ہی ہوا ہے۔ یہ بات نتیش کے مخالفین بھی جانتے ہیں۔ حتیٰ کہ مختلف سرویز میں جن میں بی جے پی کو سبقت دینے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ بھی نتیش کو بہتر وزیراعلیٰ کے طورپر پیش کرنے کیلئے مجبور ہیں، ایسے میں یہ بات کیسے کہی جاسکتی ہے کہ سیکولر محاذ کو لوک سبھا  سے کم یعنی ۴۵؍ فیصد سے بھی کم ووٹ ملیںگے؟
    سچ تو یہ ہے کہ اتحاد کے بعد ہی یہ بات طے ہوگئی تھی کہ سیکولر ووٹوں کی تقسیم نہیں ہوگی لہٰذا ان کی جیت یقینی ہے۔لالو اور نتیش کی اپنی اپنی مقبولیت ہے۔ سماج پر دونوں کے اپنے اثرات ہیں اور بہت مضبوط ہیں۔ ایسے میں کانگریس کے ساتھ نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ اس کی وجہ سے عوام کا تذبذب ختم ہوگیا تھا۔ میڈیا اپنے طور پر لالو کی کتنی بھی برائی کیوں نہ کرلے، عوام کے دلوں سے ان کی محبت ختم کرنے میں وہ کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ۲۰۱۰ء کے اسمبلی انتخابات میں ایک موقع ایسا آیاتھا جب   لالو کو بہت کم یعنی ۱۸ء۸۴؍ فیصد ووٹ ملے تھے ، ورنہ  ۲۰۰۰ء سے اب تک ہونے والے تمام انتخابات میں لالو کی پارٹی ہی کو ریاست میں سب سے  زیادہ ووٹ ملتے رہے ہیں۔۲۰۱۰ء میں لالو کے خلاف زبردست محاذ آرائی کی گئی تھی جس میں کانگریس بھی شامل تھی۔
      بی جے پی نے اِس مرتبہ۳؍ محاذ پر اپنی  پوری توجہ مرکوز کر رکھی تھی۔ اول یہ کہ نتیش کو کسی طرح لالو سے متنفر کیا جائے تاکہ یہ اتحاد ختم ہوجائے، دوم یہ کہ لالو کے خلاف ایک بار پھر جنگل راج کی ترکیب استعمال کی جائے تاکہ عوام متنفر ہوں اور سوم یہ کہ اہل بہار کو بتایا جائے کہ وہ قابل حکمراں ثابت ہوںگے لیکن یہ تینوں باتیں اس کے خلاف ہی گئیں۔ لالو اور نتیش کا تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا۔ اسی طرح جنگل راج کا پروپیگنڈہ بھی پوری طرح سے بے اثر رہا۔  بہار کے عوام یہ بات اچھی طرح جاننے لگے ہیں کہ جس پارٹی کا سربراہ ہی تڑی پار ہواورمجرمانہ حرکتوں کی وجہ سے جیل کی ہوا کھا چکا ہو، وہ دوسروں کی برائی کرنے کا حق بھلا کس طرح رکھتا ہے؟ ویسے یہ بات بھی درست ہے کہ بہار اور اترپردیش کے عوام معاشی طور پر بھلے ہی پسماندہ ہوں لیکن ان کے سیاسی شعور کا لوہا دنیا تسلیم کرتی ہے۔ بطور وزیر ریلوے لالو کی کارکردگی کا جادو آج بھی عوام کے سر چڑھ کر بول رہا ہے اور لوگ ان سنہرے دنوں کو یاد کرتے ہیں جب لالو ریلوے وزیر تھے۔ اسی طرح نتیش کی حکمرانی کی تعریف ان کے ناقد بھی کرنے  پر مجبور ہیں۔
    ایک جانب جہاں بہار میں لالو اور نتیش کی اپنی مقبولیت ہے، وہیں دوسری جانب مودی اینڈ کمپنی کے تئیں عوام میں بے اعتباری اور ناراضگی بھی ہے۔ مودی حکومت کی ڈیڑھ سالہ حکمرانی  سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ یہ سرکار صرف بیان بازیوں پر یقین رکھتی ہے۔ اچھے دنوں کا وعدہ کیاتھا لیکن ملک کے حالات مزید خراب کردیئے۔ مہنگائی پوری طرح بے لگام ہوگئی ہے،دال کو ڈرائے فروٹ بنادیا گیا ہے۔ عوام کے منہ سے نوالے چھینے جانے لگے ہیں۔غریبوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے صرف امیروں اور کارپوریٹ گھرانوں کیلئے کام کئے جارہے ہیں۔ یہ صرف الزام نہیں ہے بلکہ بی جے پی نے خود ہی اپنی ایسی شناخت   بنائی ہے۔ تحویل اراضی بل کے تئیں بی جے پی کی ہٹ دھرمی نے اس پہچان کو استحکام بخشا ہے۔مودی میں انانیت اور خود سری کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ دوسروں کو اہمیت نہ دینے کا مزاج پہلے بھی تھا لیکن اب  اس میں مزید سختی آگئی ہے۔ پورے ملک میں ادیبوں اور دانشوروں کے احتجاج کو اہمیت نہ دے کر بی جے پی سرکار   یہ ثابت کررہی ہے کہ وہ ایمرجنسی جیسے حالات پیدا کرنا چاہتی ہے۔ اسی طرح انتخابی فائدے کیلئے بی جے پی نے ملک کی فرقہ وارانہ فضا کو بھی مسموم کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ دادری سانحہ تو ملک کی پیشانی پر ایک داغ تھا ہی، اس کے بعد بھی یکے بعد دیگرے اس طرح کے کئی واقعات ہوئے لیکن بی جے پی نے ایک حکمراں جماعت کی طرح سے ان سے نمٹنے کی کوشش نہیں کی بلکہ وہ آر ایس ایس کی ایک ذیلی تنظیم کی طرح ہی کام کرتی رہی۔ اس کے اراکین آگ میں گھی ڈالنے اور ملک میں انارکی پیدا کرنے کی کوشش نہایت  بے خوفی سے کرتے رہے اور اس پر ناز بھی کرتے رہے۔
    اہل بہار کو  بی جے پی سے ناراضگی اس لئے بھی ہے کہ وہ بہار کو گجرات بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ گجرات کتنی بھی ترقی یافتہ ریاست کیوں نہ ہو لیکن اہل بہار یہ بات کبھی برداشت نہیں کرسکتے کہ ان کی تہذیب کا مذاق اڑایا جائے اور گجراتی تہذیب کو بہار کی تہذیب سےبرتر ٹھہرایا جائے۔مودی اور امیت شاہ پتہ نہیں کس زعم میں تھے کہ الیکشن کے دوران باربار اس بات کو دہراتے رہے کہ انہیں اقتدار ملا تو وہ بہار کو گجرات بناد یںگے۔یہ بات اہل بہار کی خود داری کو ٹھیس پہنچانےوالی تھی۔اسی طرح انتخابی ذمہ داریوں کے معاملےمیں امیت شاہ اور نریندر مودی نے بہاری کارکنوں پر گجراتی کارکنوں کو ترجیح دے کر بھی بہاریوں کے وقار کو مجروح کیاتھا۔ بہار کے مقامی لیڈر اس بات سے بہت برہم تھے کہ انتظامی سطح کی تمام کلیدی ذمہ داریاں گجراتی لیڈروں کو سونپ دی گئی ہیں۔شتروگھن سنہا نے جو کچھ کہا ہے، وہ صرف اُن کی آواز نہیں ہے بلکہ بی  جے پی کے ایک بڑے حلقے کی ترجمانی ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ وہ سب ایک خوف اور مصلحت کے تحت خاموش ہیں لیکن یہ بات ووٹر اچھی طرح محسوس کررہے ہیں۔  مودی اور امیت شاہ کی خود سری کی وجہ سے بی جے پی میں اندر ہی اندر کافی انتشار ہے۔ سشما، جیٹلی، گڈکری اور راج ناتھ کی خاموشی سے یہ بات پوری طرح واضح ہورہی ہے۔
     ریزرویشن کے موضوع پر آر ایس ایس کے مؤقف نے بھی بی جے پی کو بیک فٹ پر کھڑا کردیا ہے۔ بی جے پی اس موضوع پر کتنی بھی صفائی کیوں نہ دے لیکن وہ یہ بات کھل کر نہیں کہہ سکتی کہ وہ ریزرویشن کی حامی ہے۔ اگر وہ ایسا کرتی ہے تو بہار میں اس کا اپنا ووٹ بینک بھی کھسک جائے گا جس پر فی الحال پوری طرح سے اس کی اجارہ داری ہے۔ یہی سبب ہے کہ مانجھی اور پاسوان کی موجودگی کے بعد بھی ریزرویشن پانےوالا طبقہ بی جے پی کے قریب جانے سے جھجھک رہا ہے۔ یہ طبقہ اس  بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ مانجھی اور پاسوان اپنے لئے بھلے ہی کچھ حاصل کرلیں، ان کیلئے کچھ نہیں کرسکتے۔ مودی کو ایسا لگا تھا کہ بہار کیلئے ایک لاکھ ۲۵؍ ہزار کروڑ کے پیکیج کے اعلان سے وہ بہار کو فتح کرلیںگے لیکن اہل بہار جانتے تھے کہ یہ اعلان وہی شخص کررہا ہے جو لوک سبھا الیکشن سے قبل ہندوستان کے ہرشہری کے اکاؤنٹ میں ۱۵۔۱۵؍ لاکھ روپے جمع کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن الیکشن کے بعد اسی کی  پارٹی کے صدر نے اس اعلان کو انتخابی جملہ کہہ کر عوام کی سادہ لوحی کا مذاق اڑایا تھا۔ رفتہ رفتہ یہ عقدہ بھی کھل گیا کہ اس اعلان میں کافی کچھ فریب ہےاوراس کے ذریعہ اہل بہار کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس پر بی جے پی کی اس دھمکی نے زخم پر نمک کا کام کیا کہ یہ پیکیج بہار کواسی صورت میں ملے گا جب یہاں  اس کی حکومت بنے گی۔
    کل ملا کر بہار میں سیکولر محاذ کیلئے راستہ پوری طرح آسان ہے۔   ماحول مکمل طور پر آر جے ڈی، جے ڈی یو اور کانگریس کے حق میں ہے۔ ۲؍ ابتدائی مرحلوں میں ہی بی جے پی کے حواس ٹھکانے لگ گئے تھے جس کی وجہ سے تیسرے مرحلے کیلئے اسے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرنے پر مجبور ہونا پڑا لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی کیونکہ بی جے پی کو جو کچھ فائدہ مل سکتا تھا، وہ شروع کے ۲؍ مرحلوں میں ہی مل پاتا۔ آخری کے تینوں مرحلوں میں ہونےوالے انتخابی حلقوں میں سیکولر محاذ کا بول بالا پہلے سے ہی تھا۔ تیسرے مرحلے میں جن ۵۰؍ اسمبلی حلقوں میں الیکشن ہوا، لوک سبھا الیکشن میں تقریباً تمام سیٹیں بی جے پی نے جیتی تھیں لیکن اس صورت میں جبکہ آر جے ڈی اور جے ڈی یو کے ووٹ تقسیم ہوئے تھے بصورت دیگر نالندہ، پاٹلی پتر، ویشالی، سارن اور بکسر لوک سبھا حلقوں میں بی جے پی کسی صورت میں کامیاب نہیں ہوپاتی۔’پٹنہ صاحب‘ میں شترو گھن سنہا کی اپنی مقبولیت تھی، جس کی وجہ سے بی جے پی کو کامیابی مل گئی تھی مگر اس مرتبہ ان کے مداحوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگئی تھی کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ اسمبلی الیکشن میں  ان کے اپنے انتخابی حلقے میں ان کی ناراضگی کا کچھ تو اثر ہوا ہوگا۔ اسی طرح آخری کے دو مرحلوں میں جن ۱۱۲؍ اسمبلی حلقوں میں پولنگ ہونےوالی ہے، وہاں بھی لو ک سبھا انتخابات میں سیکولر محاذ کو کافی کم سیٹیں ملی تھیں لیکن  دونوں کے ووٹوں کو یکجا کیا جائے تو ۱۸؍میں سے ۱۱؍ پارلیمانی حلقوں میں سیکولر محاذ کو برتری حاصل تھی۔ مطلب صاف ہے کہ ماحول کے ساتھ ہی اعداد وشمار بھی گواہی دیتے ہیں کہ بہار کے ودھان بھون پر بھگوا لہرانے کا بی جے پی کا خواب کسی صورت پایہ تکمیل کو نہیں پہنچے گا۔
    بلاشبہ بی جے پی نے اس مرتبہ بھی کافی محنت کی ہے لیکن اس محاذ پر نہیں کی جہاں اسے کرنا چاہئے تھا۔ لالو نے بالکل درست کہا کہ اگر ڈیڑھ برسوں میں مودی  جی کچھ کام بھی کرلئے ہوتے توانہیں پرچار منتری نہیں بننا پڑتا۔ ایک جائزے کے مطابق بی جے پی نے انتخابات کے اعلان سے کئی ماہ قبل ہی ایک ایک بوتھ کے ذمہ داران طے کردیئے تھے اوراس طرح پورے بہار میں ۳؍ لاکھ کارکنان مقرر کر رکھے تھے لیکن کاش ! بی جے پی کے ذمہ داران سمجھتے کہ کامیابی کیلئے یہ باتیں صرف جزوی اہمیت کی حامل   ہیں۔  بہرحال بہار کے انتخابی نتائج دور رَس ہوںگے۔ اس کے اثرات جہاں آئندہ سال ہونے والے مغربی بنگال  کے اسمبلی الیکشن پر پڑیںگے وہیںاس کے بعد  ہونےوالے یوپی کے انتخابی رجحان پر بھی نظر آئیںگے اور ان سب سے زیادہ مرکزی حکومت کے تیوروں پر پڑے گا جو لوک سبھا میں اکثریت مل جانے کے سبب مطلق العنان ہوگئی ہے۔ اب تو ہر کسی کو بس ۸؍ نومبر کا انتظار ہے۔

Friday, 30 October 2015

Roznaamcha_ Hamare Maamlat

ہمارے  معاملات
!
بہت افسوس کی بات ہے کہ ہم مسلمان معاملات کو کچھ خاص اہمیت نہیں دیتے۔ چوری، بے ایمانی،فریب دہی اور آنکھوں میں دھول جھونکنے  کے عمل کو برا تو سمجھتے ہیں لیکن یہی کام بڑی ہنرمندی سے کرتے ہیںاور اپنے طور پر اپنے عمل کو ’جائز‘ بھی ٹھہراتے ہیں۔حاجی اور نمازی کے طور پر اپنی شناخت کو مشتہر کرنےوالے بعض لوگ اتنی چھوٹی سی بات نہیں سمجھتے کہ حرام کمائی سے بننےوالا خون جب رگوں میں دوڑے گا، تواس کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوںگے۔  یہ سن کر بہت افسوس ہوتا ہے جب یہ لوگ ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ ’’ایمانداری سے کاروبار کیا ہی نہیں جاسکتا۔‘‘ کیا وہ نہیں جانتے کہ تجارت حضور اکرمؐ کی سنت ہے۔ ایسا کہہ کر یہ نہ صرف سنت نبویؐ کی توہین کرتے ہیں بلکہ وہ لوگ جو ایمانداری سے کاروبار کرتے ہیں اور ترقی بھی کرتے ہیں، ان کی جانب انگشت نمائی کرتے ہیں اور بلا سبب ان کے تئیں بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
     مسلم دکانداروں اور غیر مسلم دکانداروں میں ایک واضح فرق ہے کہ صارفین کا غیرمسلم دکانداروں پر بھروسہ زیادہ ہوتا ہے۔ استثنائی صورتوں کو چھوڑ کر اکثر یہ بات محسوس کی گئی ہے مسلم دکانداروں کے یہاں ناقص مال ملتا ہے، وزن کم ہوتا ہے اور قیمت زیادہ ادا کرنی پڑتی ہے۔  ہمارا اپنا ذاتی مشاہدہ کہ مسلم دکاندار سامان کو سونے کی  طرح تولتے ہیں۔ کیا مجال کہ ایک کلو سامان لینےوالے ۳۔۲؍گرام زیادہ چلا جائے جبکہ غیر مسلم دکاندار وزن برابر کرنے کے بعد ۱۵۔۱۰؍ گرام سامان یونہی ڈال دیتے ہیں۔ اس سے صارف کو اطمینان ہوتا ہے۔ چلو یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن کچھ لوگ مختلف طریقے استعمال کرتے ہوئے سامان کم بھی تولتے ہیں۔ بالخصوص بھنگار کا کاروبار کرنے والے اس طرح کی فریب دہی کو ہنر سمجھتے ہیں۔ اس پر پشیمانی اور شرمندگی  کے بجائے نہایت شان سے کھلے عام اظہار بھی کرتے ہیں۔
     ہم جس پیٹرول پمپ سے پیٹرول لیتے ہیں، وہ ایک نامی گرامی مسلمان کا ہے۔ ہمیں نہیں پتہ کہ اس کی براہ راست آمدنی ان تک پہنچتی ہے یا کرائے پر دے رکھا ہے لیکن نام بہرحال انہیں کا چلتا ہے۔ ہم ایک عرصے سے دیکھتے  آرہے ہیں کہ وہاں پر ۱۰۰؍ روپے کا پیٹرول لیا جائے تو ۹۹؍ روپے اورکچھ پیسے کا پیٹرول ملتا ہے۔ شروع میں ہمیں لگا کہ اگر ہمیں کچھ کم ملتا ہے تو ممکن ہے بعض کو کچھ زیادہ بھی مل جاتا ہو لیکن بار بار کے مشاہدے کے بعد ایک بار میں ہم نے ملازم سے پوچھ ہی لیا تو پتہ چلا کہ وہ مشین اتنے پر سیٹ کی ہوئی ہے۔   ظاہر ہے کہ ۴۰۔۳۵؍ پیسے کیلئے صارف تکرار نہیں کرتا لیکن یہ بات  قابل غور ہے کہ اس طرح ایک پیٹرول پمپ پر دن بھر میں کتنا ’زائد‘ پیسہ جمع ہوجاتا ہوگا؟ اگر وہ رقم ’خیرات‘ بھی کردی جاتی ہو تو وہ حق ادا ہوجائے گا؟ کاش ! ہم سمجھ سکتے کہ حقوق العباد کی اسلام میں کیا اہمیت ہے؟ اور یہ کہ ہم اپنے عمل سے اسلام کو کتنا بدنام کررہے ہیں؟